لاہور (نیوز رپورٹر) چھٹی قومی زراعت شماری مےں کسانوں اورزرعی مزدوروں خصوصا عورتوںاو اقلےتوں کے مسائل اٹھانے کے لئے سیپ پاکستان نے ملک گیر مہم کا آغاز کر دیا ہے تاکہ سرکاری پالےسےوں منصوبو ں اور قانون سازی کے عمل مےں شمولےت سے ان محروم لوگوں کو روزگار کی فراہمی ،تحفظ خوراک،کے مواقع وپروگرام اور وسائل مہےا کئے جا سکےں ۔ساوتھ ایشیا پارٹنر شپ نے اس امر پر گہری تشوےش کا اظہارکیاہے کہ اس اہم ترےن کام مےںکسان و مزدور عورتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کےا گےا ہے ،ان کے ابتر حالات کے بارے مےں ہماری رےاست کا روےہ ہر گز بھی مناسب نہےںاسی لئے زراعت شماری مےں ان کے مسائل و حالات کوشامل نہےں کےا جاتا اور نہ ہی وہ قومی منصوبہ سازی اور پالےسےوں کا حصہ بن سکتے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ افراد شماری ہو ےا زراعت شماری ،ہماری ر ےا ست اسے بطو رہتھےار استعمال کرتی چلی آ رہی ہے اورنمونہ جاتی زراعت شماری کے ذرےعہ رےاست اپنے من پسند اعداد وشمار اور معلومات اکٹھی کر کے اپنے کام مےں لا تی ہے اورےہ خد شہ بھی ہے کہ کہےں اےسا تو نہےں کہ حکو مت زراعت شماری کے ذرےعے کارپورٹ فارمنگ کےلئے ز رعی زمےنوں کے کوائف ا کٹھے کرناچاہتی ہو تاکہ ےہ معلومات غےر ملکی کمپنےوں کو فراہم کی جا سکےں ۔سےپ پاکستان اور اس کے نےٹ ورک مےں شامل تنظےموں اور کسانوں و مزدوروں کے نمائےندے نے مطا لبہ کیا ہے کہ زراعت شماری نمونہ جاتی کے بجائے ملک گےر سطح ُپر کرائی جائے اورکسانوں ومزدوروں (عورتوں، مردوں اور اقلےتوں ) پر مشتمل کل آبادی مےں خوراک ،تعلےم ،صحت ،روز گار اور دےگر صورتحال کے بارے مےں اعداد و شمار اکٹھے کئے جائےں زرعی پےداواری عمل مےں عورتوں کے کام کی ہر نوعےت سامنے لائی جائے اور زرعی معشےےت مےں ان کے حصے کو بھی اجاگر کےا جائے ۔
Recent Comments